انڈیا چائنہ تنازع

چین بھارت تنازعہ،

چینی ناراضگی کی چار وجوہات

لداخ کے لہیہ قصبہ کے مکین بزرگ نوانگ زیرنگ ایک چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا تھے۔ دس سال قبل جب لہیہ میں ان سے ملاقات ہوئی، تو وہ اپنی عمر نوے سال بتارہے تھے۔ چند برس قبل انکا انتقال ہوا۔ اس پیرانہ سالی میں وہ 1962ء کی بھارت،چین جنگ کے قصے کچھ ایسے بیان کرتے تھے ، جیسے کل کے واقعات ہوں۔ ان کی بات چیت تاریخ کے کچھ ایسے دریچے کھول دیتی تھی، جو صفحات پر آنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس جنگ کے دوران انہوں نے دولت بیگ اولدائی کے مقام پر بھارتی فوج کیلئے پورٹر اور گائیڈ کا کام کیا۔ ہمالیہ اور قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کے درمیان دولت بیگ اولدائی ایک وسیع و عریض بے آب و گیاہ سرد ریگستان ہے۔

موسم گرم کے بس چند ماہ اس میدان میں گھاس اور پھول دکھائی دیتے ہیں، ورنہ اس کی سطح کہر اور برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ سولہویں صدی میں جب کشمیر اور وسط ایشیا کے درمیان روابط عروج پر تھے، تو یارقند کے اولدائی قبیلہ کے ترک امیر سلطان سعید خان عرف دولت بیگ اور اسکا قافلہ جب کشمیر اور لداخ پر فوج کشی کے بعد واپس جا رہا تھا کہ اس مقام پر برفانی طوفان نے ان کو آگھیرا۔ چار صدی بعد برطانوی سرویئر جنرل والٹر لارنس پیمائش کیلئے اس علاقہ میں پہنچا تو وہاں انسانوں اور جانوروں کی ہڈیاں بکھری نظر آئیں۔ مقامی افراد نے اس کو بتایا کہ یہ دولت بیگ اولدائی کے قافلہ کی باقیات ہیں۔ ان کو دفن کرنے کے بعد لارنس نے اس وسیع و عریض میدان اور اسکے اطراف کا نام دولت بیگ اولدائی رکھا۔ اس علاقہ میں جاڑوں میں درجہ حرارت منفی 55 ڈگری تک گر جاتا ہے۔ یہاں سے چینی سرحد بس آٹھ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور سب سے قریبی انسانی آبادی سوکلومیٹر دور مورگو گاوٗں ہے، جہاں بلتی نسل کی آبادی ہے اور بھاری تعداد میں بھارتی فوج ہے۔ خیر زیرنگ کا کہنا تھا کہ کہ 1962ء میں وہ اس علاقہ میں 14جموں و کشمیر ملیشیا (اب اس کا نام جموں و کشمیر لائٹ انفینٹری ہے) اور پانچویں جاٹ رجمنٹ کے ساتھ بطور گائیڈ و پورٹر منسلک تھا۔ اس علاقہ میں بھارتی فوج کا بٹا لین ہیڈ کوارٹر بھی تھااور اس کے آس پاس 21فوجی چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔

اکتوبر میں جنگ چھڑ چکی تھی، مگر دولت بیگ کا علاقہ ابھی تک محفوظ تھا۔ 20اکتوبر کے آس پاس دوری پر قزال ، جلگا اور چاپ چپ وادی میں چینی فوج کے داخل ہونے کی خبریں موصول ہوئی۔ ابھی تک دولت بیگ کی طرف ان کے کوچ کی کوئی خبر نہیں تھی۔ مگر 23اکتوبر کی ٹھنڈی صبح جب زیرنگ بیدا ہوا ، تو دیکھا کہ پورا بٹالین ہیڈ کوارٹر ہی خالی ہے۔ کسی جنگ کے بغیر ہی لیفٹنٹ کرنل نہال سنگھ اور میجر ایس ایس رندھاوا کی قیادت میں فوج نے پسپائی اختیار کی تھی۔ ان کو اندازہ تھا کہ چپ چاپ وادی کے بعد چینی فوج دولت بیگ تک ضرور آجائیگی۔ تاہم وزارت دفاع کی ہسٹری ڈویژن میں 480صفحات پر مشتمل اس جنگ پر مبنی دستاویز (جس پر ابھی بھی محدود اور اسکرٹ کا ٹھپہ لگا ہوا ہے)میں لکھا ہے کہ اس علاقہ پر چینی فوجوں نے حملہ کیا اور کئی چوکیوں پر قبضہ بھی کیا۔ پھر بھارتی فوج کی بٹالین نے سبھی جنگی آپریٹنگ طریقہ کارں کو روبہ عمل لاتے ہوئے راشن ، بھاری ہتھیار اور امیونیشن ڈپو کو تباہ کرتے ہوئے بہادری کے ساتھ 22 اکتوبر کی رات پسپائی اختیار کی۔ بزرگ زیرنگ کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

پسپائی کی کچھ ایسی جلدی تھی ، کہ کسی نے بھی اس پورٹر اور گائیڈ کو جگانے کی زحمت نہیں کی۔ اور تو اور جن ٹرکوں پر و ہ فرار ہورہے تھے، چند میل کے فاصلہ پر رات کے اندھیرے میں وہ ایک برفانی جیل میں پھنس گئے۔دن کا انتظار کرکے ان کو ٹھیک کرنے کے بجائے ، فوج نے پیدل ہی مورگو کی طرف مارچ کیا، جہاں سے ان کو لہیہ لے جایا گیا۔ نہال سنگھ اور رنڈھاوا نے وہاں بیان درج کروایا کہ دولت بیگ پر چینی فوج کا قبضہ ہو چکا ہے۔ اگلے سات ماہ تک زیرنگ نے اس علاقہ میں اکیلے زندگی گذاری۔ چونکہ راشن اور ایندھن وافر مقدار میں تھا، اسلئے کھانے پینے کی کوئی دقت نہیں تھی۔ اکیلے پن اور کسی انسانی وجود کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ کسی وقت دعا مانگتا تھا کہ کاش چینی فوج آکر اسکو جنگی قیدی ہی بنا ڈالے۔ موسم بہار کی آمد تک جب کسی نے اس علاقہ کے سدھ بدھ نہیں لی، تو اس نے پیدل مارچ کرنا شروع کیا۔ شاید دو دن متواتر پیدل مارچ کرنے کے بعد نیچی پرواز کرتا ہوا ایک ہیلی کاپٹر نظر آیا، جس کو و ہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوا۔

ہیلی کاپٹر میں موجود بھارتی فضائیہ اور خفیہ محکمہ کے افراد بھی اکتوبر 1962میں ہوئی جنگ میں چینی دراندازی اور علاقہ پر قبضہ کی نوعیت کا پتہ لگانے کے مشن پر تھے۔ زیرنگ کی اطلاع پر وہ بھی حیران تھے، کیونکہ سرکاری فائلوں میں دولت بیگ پر چینی قبضہ دکھایا گیا تھا، جبکہ پورٹر کے بیان کے مطابق اس علاقہ میں چینی فوج آئی ہی نہیں تھی۔ آخر چینی افواج نے دولت بیگ کو اپنے قبضہ میں کیوں نہیں لیا ہنوز ایک معمہ ہے۔ یہ وسیع و عریض میدان ایک طرح کا قدرتی ہوائی مستقر ہے۔ بھارت فوج اب اس کو ہوائی پٹی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ بہر حال آج کل ایک بار پھر بھارتی اور چینی افواج لداخ اور شمال مشرق میں سکم و اروناچل پردیش کے علاقوں میں آمنے سامنے ہیں۔2013ء کے دیپ سانگ واقعہ کے بعد اس طرح کے واقعات متواتر پیش آرہے ہیں۔ برف پگلنے کے بعد دونوں ملکوں کی افواج پیٹرولنگ کیلئے نکلتی ہیں۔

چونکہ علاقے میں بارڈر کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے، اس لئے فوجیں متنازعہ علاقوں کی پیٹرولنگ کرکے اس پر علامتی حق جتاتی ہیں۔ چند برسوں سے جیسے 2014ء میں چمور اور 2017ء میں ڈوکلام کے مقام پر چینی افواج نے صرف پیٹرولنگ کے بجائے باضابط ڈیرا ڈال کر چوکیاں بنائی۔ بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار بھی چینی دراندازی کا انداز بالکل مختلف ہے اور وہ کسی بھی صورت میں واپس جانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ 2013ء کے بعد سے چینی برتاو میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ہے کہ چالیس سال سے جاری مذاکرات کا کوئی سرا نظر نہیں آتا ہے، اور اس سے بھی بڑی وجہ جولائی 2011ء میں کاشغر میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے ہیں، جن کے تار بھارت میں پائے گئے۔ بھارتی کابینہ میں موجودہ وزیرجنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ جب 2010ء میں من موہن سنگھ کی وزارت اعظمیٰ کے دور میں فوجی سربراہ مقرر ہوئے ، تو انہوں نے ایک انتہائی خفیہ یونٹ ’ٹیکنیکل سروسز ڈویژن‘(ٹی ایس ڈی) تشکیل دیا۔ مئی 2012ء میں وی کے سنگھ کی سبکدوشی کے فوراً بعد جب نئے آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے ٹی ایس ڈی کو تحلیل کرکے اس یونٹ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک محکمانہ انکوائری کا حکم دیا، تو حکومت کے ہوش اڑ گئے۔ ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کی قیادت میں تقریباً ایک سال کی عرق ریزی کے بعدانکوائری کمیٹی نے ہوش رْبا انکشافات پر مشتمل ایک رپورٹ جولائی میں آرمی چیف کے سپرد کی اور اسے انتہائی خفیہ رکھنے کی تاکید کی۔
سابق آرمی چیف نے ریٹائر ہونے کے بعد حکمران کانگریس کے خلاف سیاسی محاذکھولا تھا، حتّٰی کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔اس وجہ سے کانگریسی زعما کا خیال تھا کی اس رپورٹ کے کچھ اقتباسات افشا کرکے جنرل سنگھ کو ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے۔ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پرت در پرت ظاہر ہونے والی ٹی ایس ڈی کی سرگرمیاںفارن آفس کے ہوش اڑا دیںگی اور ہمسایہ ممالک کے بارے میں بھارت کی فوجی اور خارجہ پالیسی کے تضاد کو بے نقاب کردیں گی۔ رپورٹ کے افشا کے فوراً بعد حکومتی حلقوں نے خم ٹھونک کر اعلان کیا تھاکہ جنرل سنگھ اور ان کے قائم کردہ خفیہ یونٹ کی سرگرمیوں کی مزید جانچ مرکزی تفتیشی ایجنسی(سی بی آئی) سے کروائی جائے گی اور تفتیش کے اختتام پر ایک چارج شیٹ بھی کورٹ میں پیش کی جائے گی۔

تب تک جنرل سنگھ کے خلاف الزامات کا دائرہ کشمیر میں سیاستدانوں کو رقوم کی فراہمی اور وزارت دفاع کے افسروں اور فوج میں اپنے مخالفین کی فون کالزٹیپ کرنے تک محدود تھا،مگر جب یہ رپورٹ وزیراعظم کے دفتر پہنچی تویہ ہوش رْبا انکشاف ہوا کہ نہ صرف اس فوجی یونٹ نے پاکستان کے اندر آپریشن ’ڈیپ اسٹرائیک‘ کے کوڈ نام کے تحت کارروائیاں کی ہیں بلکہ چینی صوبہ سنکیانگ تک بھی رسائی حاصل کر لی ہے ۔کاشغر میں ہوئے دھماکے اور چین کے دیگر علاقوں میں افراتفری کیلئے بھی اسی یونٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ تو اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا کہ جامع تحقیقات سی بی آئی کے بجائے انٹیلی جنس ایجنسی (آئی بی) کے سپر د کی جائے تاکہ تحقیقات خفیہ رہے۔ جنرل بھاٹیہ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس خفیہ یونٹ نے ایک ہمسایہ ملک میں آٹھ بم دھماکے کرنے کے لیے وسائل فراہم کیے اور ایک دوسرے ہمسایہ ملک میں سیاسی اور مذہبی بے چینی کو ہوا دی۔ اس یونٹ نے ہمسایہ ملک میں سرگرم علیحدگی پسندوں کو نہ صرف وسائل فراہم کیے بلکہ انہیں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی تحریک بھی دی۔ دراصل جنرل سنگھ کے پیش روجنرل دیپک کپور نے اس طرح کاایک ڈویژن قائم کرنے کی تجویز اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو پیش کی تھی جس پر کابینہ کی سلامتی سے متعلق کمیٹی میں بحث بھی ہوئی۔

فوج کے ایک حلقے کا کہنا ہے کہ انٹونی نے جنرل سنگھ سے پہلے ہی اس یونٹ کے قیام پر اپنی مہر ثبت کردی تھی ، مگر انٹونی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ یونٹ سیاسی منظوری کے بغیر قائم کیاگیاتھا۔ حقائق جو بھی ہوں،اس یونٹ نے اپنا کام باضابطہ طور پرجنرل سنگھ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد مئی2010 سے شروع کیا اور40 افراد ،جن میں آٹھ افسران اور32 دوسرے رینکس کے اہلکارتھے ،کو اس کے کورگروپ میں شامل کیا گیا۔ یہ افراد براہ راست آرمی چیف کو رپورٹ کرتے تھے جبکہ انتظامی طور پر ان کو ملٹری انٹیلی جنس کے ایم ون 25 یونٹ کے ماتحت رکھا گیا۔ اس مدت کے دوران کئی مقامات ،خصوصاً جموں، سرینگر، احمدآباد، گوہاٹی اور ممبئی میں اس یونٹ نے کئی خفیہ ٹھکانے بنائے اور انتہائی جدید ٹیلی فون ریکارڈنگ مشینیں درآمد کیں۔اس پیشرفت کے بعد انٹیلی جنس بیورو کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے سویلین انتظامیہ کو متنبہ کیاکہ فوج غیرقانونی طور پر افسروں اور سیاسی قیادت کے فون ٹیپ کررہی ہے۔ چند مشینوں کے سوا ،جنہیں لائن آف کنٹرول اور چینی سرحد پر متعین کیا گیا تھا، باقی مشینوں کو آئی بی نے 2013ء میں ناکارہ بنادیا اور ان میں سے ایک کو سرینگر میں دریائے جہلم کی نذر کردیاگیا۔

اس یونٹ کا ہیڈکوارٹر دہلی کی فوجی چھائونی کے اندردومنزلہ عمارت میں بنایاگیا تھا جو جلد ہی فوجیوں میں Butchery یعنی ’قصاب خانہ‘کہلانے لگا۔ڈویژن کی کمان جنرل سنگھ نے اپنے ایک دیرینہ رفیق کار کرنل مہیشور ناتھ بخشی المعروف ھنی بخشی کے سپرد کی تھی۔ مینڈیٹ کے بارے میں آرمی افسروں کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف بھارت کی سکیورٹی پر اثر انداز ملکوں کے اندر آپریشن کرنا، عسکریت کے منبع کا قلع قمع کرنااور اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے ان ملکوں میں علیحدگی پسندعناصرکو وسائل فراہم کرنا اور ملک میںجاری شورش ختم کرنا تھا۔ فوجی افسروں کے مطابق یہ سارے اہداف صرف 20سے30 کروڑ روپے سالانہ خرچ کرکے حاصل کئے گئے تھے۔ 2012ء میں اس پوری یونٹ کو تحلیل کرنے کے بعد کرنل ہنی بخشی کو ملٹری پولیس نے حراست میں لیکر اسکے کورٹ مارشل کے احکامات صادر کئے۔ دہلی چھائونی میں اسی قصاب خانہ میں ہی ان کو زیر حراست رکھا گیا ۔ مگر مئی 2014میں نریندر مودی کے برسراقتدار آتے ہی ، کورٹ مارشل کی کارروائی ختم کر دی گئی۔ جنرل وی کے سنگھ کو وزارت میں شامل کرکے وزیر مملکت برائے امور خارجہ بنایا گیا۔ فی الوقت و ہ زمینی ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر ہیں۔

کرنل ہنی بخشی کی مراعات بحال کرکے ان کو بریگیڈئر کا درجہ دیکر ریٹائرڈ کر کے پوری تحقیقات ہی داخل دفترکی گئی۔ گو کہ من موہن سنگھ حکومت چینی ہم منصبوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی ، کہ اس یونٹ کی سرگرمیوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا اور کورٹ مارشل کی کارروائی کرکے اس نے چینی حکومت کو کسی طرح قائل بھی کردیا تھا ۔ مگر مودی نے آتے ہی جس طرح اس یونٹ کی کارروائیوں کو سراہا ہے ، ظاہر ہے کہ بیجنگ میں اس سے خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ شاید چین کسی اور ایشو کو صرف نظر بھی کرتا، مگر کاشغر میں ہوئے بم دھماکوں اور کئی دیگر علاقوں میں ہوئی تخریبی کارروائیوں کیلئے وہ غلطیوں کو بخشنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ چینیوں کی ناراضگی کی ایک دوسری وجہ سرحدی علاقوں میں بھارتی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت ہے۔ چندسال قبل بھارتی کابینہ کی سلامتی سے متعلق امورکی کمیٹی نے چین کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مشرقی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پانچ سو ارب روپے کی منظوری دی جس کے تحت اس خطے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ایک نئی فوجی سٹرائیک کور کا قیام شامل ہے۔
پچھلے سال 66 روڈ پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔ جس میں ایک نیپال کی سرحد سے ملحق تبت میں موجود ہندو تیرتھ استھان کیلاش مانسرور جانے کا راستہ بھی شامل ہے۔ اسی طرح بھارت‘ شمالی صوبہ ہماچل پردیش کو لداخ سے ایک ٹنل کے ذریعے جوڑنے کے لیے ایک خطیر رقم بھی مختص کر چکا ہے۔ ان اقدامات کے بعد چین کا رد عمل لازمی تھا۔ تیسری وجہ ہے کہ سفارتی سطح پر بھارت کسی بھی طرح سے سرحدی تنازعات کو سلجھانے میں دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔ بھارت جوں کی توں پوزیشن برقرار رکھنے میں بضد ہے، اسلئے مذاکرات کو طول دے رہا ہے۔ 1988ء میں راجیو گاندھی نے بیجنگ جاکر نئے تعلقات کی داغ بیل ڈالی تھی۔ چینی راہنما صدر یانگ شانگ کن ، وزیر اعظم لی پنگ اور ملٹری کمیشن کے سربراہ دنگ زیائو پنگ اسوقت چین کو ایک تجارتی اور مینوفیکچرنگ مرکز بنانے پر توجہ مرکوز کئے ہوتے تھے۔
اپنے اردگرد 14میں سے 13ممالک کے ساتھ چین سرحدی تنازعہ سلجھانے کی تگ و دو کررہا تھا ، تاکہ اسکی پوری توجہ معاشی ایشوز کی طرف مرکوزرہے۔ صرف بھارت واحد ملک تھا ، جس کے ساتھ سرحدی تنازعات کے سلسلے میں کوئی میکانزم موجود نہیں تھا۔ راجیو گاندھی کے دورہ کے دوران سرحدی تنازعات کو سلجھانے کیلئے دونوں ملکوں کے فارن دفاتر میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے۔ 1993ء میں وزیر اعظم نرسہما راوٗ نے اس سعی کو اورآگے لیجاکر سرحدوں کو پرامن رکھنے کے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجی پارٹیاں ہتھیاروں کے بغیر پٹرولنگ کرکے واپس اپنے کیمپوں میں چلی جائیگی اور متنازعہ علاقوں میں جانے سے قبل ایک دوسر ے کو مطلع کرینگی۔اسکے علاوہ ان علاقوں میں کوئی انفراسٹرکچر کھڑا نہیں کیا جائیگا۔

2003ء میں چین نے شکایت کی کہ فارن دفاتر کے ورکنگ گروپ تنازعہ کو سلجھانے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی بیجنگ آمد پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ اس مسئلہ کو فارن آفس سے لیکر بھارتی وزیر اعظم اور چینی صدر کے قریبی معتمدوں کے حوالے کیا جائے۔ اس طرح خصوصی نمائندو ں کا تقرر ہوا۔ بھارت کی طرف سے طے ہوا کہ قومی سلامتی مشیر ، چونکہ ہمہ وقت وزیر اعظم کے رابطہ میں رہتا ہے، وہ چینی ہم منصبوں کے ساتھ گفت شنید کریگا۔ پچھلے سال تک دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں نے 22ادوار کے مذاکرات کئے ہیں۔ دو سال قبل سابق قومی سلامتی مشیر شیو شنکر مینن نے راقم کو بتایا کہ خصوصی نمائندو ں کا رول اب ختم ہو چکا ہے۔ مینن ، جنہوں نے پانچ سال تک یہ فریضہ انجام دیا کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب دائی بنگو کے ساتھ مل کر لو اور دو کے فارمولہ کے تحت ایک حل ترتیب دیا ہے۔ اور اب اعلیٰ سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اسکو باضابط میز پر لائے، جو وہ کرنے سے کترارہی ہے۔ دائی بنگو نے اپنے منصب سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایک چینی جرنل میں لکھا تھا کہ انہون نے بھارت کو تجویز دی تھی کہ گراونڈ پوزیشن کا احترام کرتے ہوئے، دونوں ممالک یعنی بھارت لداخ میں اکسائی چن پر اور چین شمال مشرق میں اروناچل پردیش پر دعویٰ واپس لی لیں اور پھر باقی سیکٹریز میں جو بارڈر پر تقریباً پانچ کلومیٹر کا تفاوت ہے اسکو بھی مختلف سیکٹرز میں لو اور دو کے اصول کے تحت حل کرلیں۔

مگر بھارت کی طرف سے اس تجویز کا کوئی جواب نہیں آیا اور وہ ہر سال خصوصی نمائندوں کی میٹنگ کبھی بیجنگ اور کبھی دہلی میں طلب کرتا ہے۔ 2016ء میںچینی فارن آفس کی دعوت پر دہلی میں کام کرنے والے تین صحافیوں نے تبت کا ایک تفصیلی دورہ کیا۔ میں بھی اس وفد میں شامل تھا۔ تبت اور یننان صوبہ کے شنگریلا علاقے سے واپسی پر بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے سینیر افسران نے ہمیں بریفنگ میں بتایا کہ ان کا ملک مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل نہیں ہے۔ اگر مذاکرات حل کی طرف گامزن نہ ہوں، تو وہ وقت اور قومی وسائل برباد نہیں کرسکتے ہیں۔ یعنی ہمارے ذریعے ایک براہ راست وارننگ پہنچائی جا ررہی تھی کہ مذاکرات کے سلسلے میں چین کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔ چین کی ناراضگی کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ حالیہ عرصے میں جو دستاویزات سامنے آئے ہیں، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت۔چین سرحدی تنازعہ بس ایک مفروضہ ہے، جس سے پچھلے 70سالوں سے بھارتی حکومت عوام و میڈیا کو بیوقوف بنارہی ہے۔ اسی وجہ سے 58سال گذرنے کے باوجود بھی 1962ء کی جنگ پر مبنی جنرل ہینڈرسن بروکس اور برگیڈیر پریم بھگت کی تصنیف شدہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جا رہی ہے۔ معروف صحافی کلدیپ نائر نے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کیلئے کئی بار پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھایا۔ بعد میںحق اطلاعات قانون کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ایک پیٹیشن دائر کی۔

جس کو اس وقت کے چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ نے کئی پیشیوں کے بعد خارج کردیا۔ اس دوران میں نے کئی بار انفارمیشن کمیشن کی کاروائی کو کور کیا۔ حبیب اللہ نے فیصلہ صادر کرنے سے قبل وزارت دفاع سے رپورٹ منگوا کر اسکا مطالعہ کیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اسکی بس ایک ہی کاپی ہے اور و ہ سیکرٹری دفاع کے کمرے میں ایک تجوری میں بند رہتی ہے اور اسکی کنجی صرف سیکرٹری کے پاس ہی ہوتی ہے۔ حال ہی میں حبیب اللہ نے راقم کو بتایا کہ وہ اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے اور کلدیپ نائر کی پیٹیشن کو خارج کرنے کے اپنے فیصلہ پر قائم ہیں، کیونکہ اس رپورٹ میں بھارتی فوج پر خاصے برے کمنٹ کئے گئے ہیں اور وہ ابھی بھی ان کے مورال کو ڈاون کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے نقشوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ چین اس کو ایشو بنا کر بارڈر مذاکرات میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔ بھارت کے ایک معروف قانون دان اور مصنف اے جی نورانی کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ سرحدی تنازع ایک مفروضے کے سوا کچھ نہیں ، جس کو بھارتی سفارت کاری نے گزشتہ تین دہائیوں سے فریب اور دھوکہ دہی کے ذریعے بڑی کامیابی سے دنیا کے سامنے پیش کررکھا ہے۔

اس جھوٹے پروپیگنڈہ کا آغاز کسی اور نے نہیں بلکہ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے خود کیا تھا۔ لیکن اب دستاویزی ثبوتوں اور تاریخی حقائق سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ تنازع دنیا کے سامنے تاریخ اور پھر سرحدی نقشوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے کے پیش کیا گیا ہے۔ جو حقائق سامنے آئے ہیںان سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح بھارتی رہنمائوں اور سفارت کاروں نے 1959ء میں تاریخی حقائق کو میڈیا اورتحقیقی اداروں سے دور رکھا ‘ جس کے انتہائی نقصان دہ اور دوررس مضمرات رونما ہوئے۔ حد یہ ہے کہ کشمیر میں آزادی پسند رہنما بھی اس پروپیگنڈے کا شکار ہوکر بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے چین‘ پاکستان سرحدی معاہدے پر انگلیاں اٹھاتے رہے۔بھارت کے سیاسی لیڈراکثر اس الزام کو دہراتے رہتے ہیں اور میڈیا ان بیانات کو آسمانی فرمان سمجھ کرقبول کرلیتا ہے۔27اکتوبر1947ء کو جس وقت بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل ہوئی، تو ریاست جموں و کشمیر کا رقبہ 82,258 مربع میل دکھایا گیا۔
بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل نے جب ریاستوں سے متعلق ایک وائٹ پیپر جاری کیا، تو اس میں بھی یہی رقبہ دکھایا گیا۔ 1891ء میں پہلی مردم شماری کے وقت ریاست کا رقبہ 80,900 مربع میل دکھایا گیا تھا۔مگر 1911ء کی مردم شماری میں رقبہ بڑھا کر 84,258مربع ریکارڈ کیا گیا۔مردم شماری کے کمشنر کی رائے پر 1941میں اس رقبہ کو گھٹا کر 82,258مربع میل کردیا گیا۔1951ء میں پہلی مردم شماری کے وقت اسی کو دہرایا گیا۔ البتہ 1961ء کی مردم شماری میں ریاست کے رقبہ کو بڑھا کر 86,024 مربع میل دکھایا گیا۔یہ جغرافیہ کہاں سے حاصل ہوا، ایک سیسپنس ہے۔ اس دوران کوئی جنگ بھی نہیں ہوئی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کے رقبہ میں 3,766مربع میل کا اضافہ 1960ء میں پاکستان کے صدر ایوب خان کے ساتھ کراچی میں تاریخی سندھ طاس آبی معاہدہ پر دستخط کرکے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے وطن لوٹنے کے فوراََ بعد کیا۔ ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری قدرت اللہ شہاب نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ مری کے مرغزاروں میں ایک غیررسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم نہرو نے معلوم کیا کہ کیا پاکستان چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے سلسلے میں کسی طرح کی بات چیت کررہا ہے؟

جب ایوب خان نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے اس کے نقشے کوایک نظر دیکھنے کی درخواست کی۔قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ یہ ایک بالکل ہی غیررسمی ملاقات تھی۔ ایوب خان نقشے کی ایک نقل بھیجنے کے لیے راضی ہوگئے لیکن پنڈت نہرو نے دہلی لوٹتے ہی اس پر سفارتی ہنگامہ مچا دیا۔ انہوں نے ایک سفارتی نوٹس جاری کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ آفیشیل چینل کے ذریعے مذکورہ نقشہ بھارت کے حوالے کرے۔ نہرونے اسے پاکستان اور چین کی تیار کردہ سازش تک قرار دے دیا۔ قدرت اللہ شہاب کی تقریباََ انہیں باتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اے جی نورانی نے اپنی کتابIndia-China Boundry Problem-1846-1947: History and Diplomacy میں لکھا ہے کہ وزارت خارجہ نے کس طرح پرانے نقشوں کو جلا دیا اور یک طرفہ طور پر ایک نیا موقف اپنایا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے صدر دفتر ساوتھ بلاک میں رات بھر چلے ایک آپریشن میں تمام نقشے جلائے گئے اور نئے نقشے ترتیب دئے گئے۔ وزیراعظم جواہر لال نہرو کی طرف سے سترہ پیراگراف پر مشتمل ایک میمورنڈم جاری کیا گیا جس میں تمام پرانے نقشوں کی نفی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ دستاویزی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جو نئے نقشے تیار کئے گئے ان میں شمالی اورشمال مشرقی سرحدوں کوکسی لائن کے حوالے کے بغیر دکھایا گیا۔ پنڈت نہرو نے ان نقشوں کوبیرونی ملکوں میں تمام سفارت خانوں کو بھیجنے کا بھی حکم دیا اور مشورہ دیا کہ انہیں عوامی طور پر شائع کیا جائے اور اسکولوں اور کالجوں میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے حکام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ ان سرحدوں کو ٹھوس اور حتمی سمجھا جائے اورکسی کو ان پر بحث کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

اس میمورنڈم میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’’کچھ معمولی نکات پر بات چیت ہوسکتی ہے لیکن ہم اسے اپنی طرف سے نہیں اٹھائیں گے۔ یہ ضروری ہے کہ پورے سرحدی علاقوں پر چیک پوسٹ کا سسٹم پھیلا دیا جائے خاص طور پرا ن علاقوں میں جنہیں متنازع علاقہ سمجھا جاتا ہے‘‘۔وزیر اعظم نہرو کے اس ہدایت نامہ نے سرحد کے متعلق بات چیت کے دروازے ہی بند کردیے۔ مغربی(کشمیر) اور وسطی سیکٹر(اترپردیش) میں ’غیر واضح سرحد‘ کا جو نشان 1948ء اور 1950ئکے سرکاری نقشے میں تھا اسے 1954ء کے نئے نقشے میں ختم کردیا گیا۔مزید برآں حکومت نے یہ تاثر بھی پیش کیا ‘ جسے کشمیری لیڈروں نے بھی بڑی حد تسلیم کرلیا ‘کہ پاکستان نے کچھ علاقہ چین کے حوالے کردیا ہے۔ تاہم دستاویزی ثبوتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حقیقت اسکے برعکس تھی۔ دراصل 3مارچ1963ء کو پاک‘ چین معاہدہ کے تحت چین نے ا پنا 750مربع میل کا علاقہ پاکستان کے حوالے کیا تھا۔ تھا۔یونیورسٹی آف کلکتہ اینڈ نارتھ بردوان کے ڈاکٹر بی این گوسوامی کا بھی یہی خیال ہے کہ ’’محدود ہی سہی لیکن عوام کا ایک قابل ذکر طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ مناسب اور درست تھا ‘‘۔ بیرون ملک کے غیر جانبدار مبصرین اوراس موضوع کے ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ بھارت کے اس دعوے میں کوئی زیادہ زور نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنا علاقہ چین کے حوالے کردیا ہے۔ نورانی ایک منقسم کابینہ‘ غیر ذمہ دار اپوزیشن ‘لاعلم پریس اور غیر مستحکم پارلیمنٹ کو سرحد کے مسئلہ کو پیچیدہ بنانے کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں۔

وہ مزید انکشاف کرتے ہیں کہ وزارت خارجہ میں شعبہ تاریخ کے ڈائریکٹر کے زکریا نے 1953ء میں جو جامع اور معروضی مطالعہ پیش کیا تھااس پر اب تک رازداری کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تاریخی حقائق اور سرحدی تنازع سے متعلق بھارتی پالیسی میں کوئی میل دکھائی نہیں دیتااور سفارت کاری نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنادیاہے۔چینی وزیر اعظم چو این لائی بھی 1960ء میں نئی دہلی کے دورہ کے دوران مسئلے کے کسی حل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے جب کہ چینی رہنما دنگ زیائو پینگ نے بھی 1978چین کے دورے پر گئے اس وقت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی سے سرحدی تنازع کو حل کرنے کی بات کہی تھی۔ نورانی کا خیال ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان گہرے ہوتے اختلافات کے سفارتی نقصانات لامحدود ہیں بالخصوص ایسی صورت حال میں جب کہ بھارت کے اپنے پڑوسیوں اور خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔

منقول ۔۔
نام کمنٹس میں مل گیا تو ڈال دیا جائے گا ـ

اک خواب !

ایک دوست تعبیر پوچھتے ہیں کہ انہوں نے خواب دیکھا کہ آثار قدیمہ والے رسول اللہﷺ کے جسد مبارک کو روضہ شریف سے نکال کر کہیں لے جانا چاہتے ہیں اور میں رسول اللہ ﷺ کے جسد مبارک کو بچانے کی کوشش کر رہا ہوں ـ
عرض کیا ایسا ہی ایک خواب ہم نے بھی دیکھا اور سمجھ گئے تھے کہ خطرہ رسول اللہ ﷺ کے جسد کو نہیں تعلیمات اور سیرت کو ہے ، لہذا لنگوٹ کس کر رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں نکل پڑے ،، سابقہ انبیاء کا دامن تو قرآن نے صاف کر دیا ، ہمارے رسول ﷺ کے دامن کو صاف کرنے کوئی کتاب نازل نہیں ہو گی ، یہ کام ہمیں کو کرنا ہو گا ، اور ہر اس کہانی کو مسترد کرنا ہو گا جو ہمارے نبی ﷺ کے دامنِ سیرت کو داغدار کرے ـ اس کے لئے ہمیں جس جس کو بھی چھوڑنا پڑے اس کو چھوڑنا ہم افورڈ کر سکتے ہیں مگر رسول اللہ ﷺ کو نہیں چھوڑ سکتے ،، اس لئے کہ ہم سے باقی کسی کے بارے میں ہمارے خیالات حشر میں نہیں پوچھے جائیں گے ، رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا ،، میں نے جب اس موضوع پر لکھنا شروع کیا تو مساجد کے ائمہ اور مدارس کے اساتذہ تک نے کہا کہ وہ ان کہانیوں کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہو چکے تھے ، مگر اب انہیں احساس ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اس قسم کی کہانیوں پر اعتبار کر کے رسول اللہ ﷺ کا دامن چھوڑنے کی بجائے، اس کہانی کار کو چھوڑنا بہترین حل ہے ـ

بہترین منصوبہ ساز

اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !

سورہ یوسف وہ واحد طویل سورت ھے جو یہود کے سوال کے جواب میں بیک وقت نازل ھوئی !
اس کو بیک وقت نازل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہود یہ نہ کہہ سکیں کہ نبی پاک ﷺ کسی سے پوچھ پوچھ کر قسطوں میں جواب دیتے ھیں !

یہ سورہ یوسف سے شروع ھونے والی داستان سورہ القصص میں جا کر مکمل ھوتی ھے جہاں اس کی انتہا ھوئی ھے !

یہود کا سوال یہ تھا جو کہ مکے کے مشرکوں کے ذریعے کیا گیا تھا کہ اگر وہ اللہ کے نبی ھیں تو ان سے پوچھو کہ بتائیں بنی اسرائیل فلسطین سے مصر کیونکر منتقل ھوئے !

جواب میں پورا قصہ یوسف بیان کیا گیا ،، اذھبوا بقمیصی ھذا فألقوہ علی وجہ ابی یأت بصیراً ” وأتونی بأھلکم اجمعین ” میری قمیص لے جا کر میرے ابا جی کے منہ پہ ڈالو ،، وہ دیکھنے لگ جائیں گے اور اپنی اپنی فیملیوں سمیت سارے میرے پاس آ جاؤ ” گویا یوسف کو پہلے لے جا کر بادشاہ بنایا تا کہ بنی اسرائیل کے لئے پناہ گاہ میسر ھو پھر انہیں وھاں شفٹ کیا گیا !
دوسرا یہ کہ بڑے پیارے انداز میں تعریض فرمائی کہ ،،جو یوسف کے بھائیوں نے اس کے ساتھ کر کے بادشاہ بنوایا ،،آج اے مشرکینَ مکہ اور یہودِ مدینہ تم ٹھیک ٹھیک وھی کچھ محمد ﷺ کے ساتھ کر رھے ھو ،، مگر نہ برادرانِ یوسف میری اسکیم کو روک سکے تھے اور نہ تم روک سکو گے، ” لقد کان فی یوسف و اخوتہ آیاتٓ للسائلین !ا ان سوال کرنے والوں کے لئے یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں بڑی نشانیاں ھیں !!

یاد رکھو اللہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ھے !

کوئی اس کے اگلے قدم کو preempt نہیں کر سکتا !

یوسف کو بادشاھی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ھے تو دوسرا مستقبل کا نبی ھے ! مگر دونوں کو ھوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ھو گا !

خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !

یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ھے ،،خوشبو نہیں آنے دی !

اگر خوشبو آ گئ تو باپ ھے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاھی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !

سمجھا دونگا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ھے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رھا ھے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ھے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ھاتھ میں رکھا ھے !

اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ھوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ھے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ھو رھے ھیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !

یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،،

جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ھو جاتا تو یوسف سوالی ھوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او ” کے تحت باھر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناھی ثابت نہ ھو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواھی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،

وھی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وھی قحط ھانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ،، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ھے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ، فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ھے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ھیں، یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون ،، تم مجھے سٹھیایا ھوا نہ کہو تو ایک بات کہوں ” مجھے یوسف کی خوشبو آ رھی ھے : سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاھتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ھے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئ ھے !

واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون ! اللہ جو چاھتا ھے وہ کر کے ھی رھتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !

یاد رکھیں آپ کے عزیزوں کی چالیں اور حسد شاید آپ کے بارے میں اللہ کی خیر کی اسکیم کو ھی کامیاب بنانے کی کوئی خدائی چال ھو ،، انہیں کرنے دیں جو وہ کرتے ھیں، اللہ پاک سے خیر مانگیں !

جو آپ کو جاب سے نکلوانا چاھتا ھے شاید کسی اچھے پیکیج کی راہ ھموار کر رھا ھے !!

#یوسف #پاکدامنی #یعقوب #حسد #چالیں

#Allah # well planner #

سبائیات

سبائیات ـ

اویس قرنی عمران سیریز کی طرح کا ایک دیومائی کردار تھا ، اس کی طرف منسوب افعال کو سنتِ رسول ﷺ کے بالمقابل پیش نہیں کیا جا سکتا ـ رسول اللہ ﷺ نے بین کرنے ،منہ پیٹنے ،گریبان پھاڑنے کو زمانہ جاھلیت کی حرکات قرار دیا ہے ـ اپنے اوپر تشدد کے لئے اویس قرنی کے دانت توڑنے کا فسانہ پیش نہیں کیا جا سکتا ـ یمن سے ہمیشہ فتنہ ہی آیا ہے ـ کعب احبار یہودی تھا جو نبئ کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود تھا مگر مسلمان نہیں ہوا ، جس نے اسلامی لٹریچر میں یہود کے عقائد اور کلچر کو گھسا دیا ، حضرت عثمانؓ کی خلافت کے زمانے میں عبداللہ ابن سبا یہودی چال کے طور پر مسلمان ہوا ،پہلے مدینے میں رہ کر مسلمانوں کی کمزوریوں کو سمجھا اور پھر ایک خفیہ گروہ قائم کیا ،جس نے اپنی دعوت و تبلیغ کی بنیاد لوگوں میں آل نبی ﷺ اور حضرت علی کی ولایت کی محبت پر رکھی ، اور بنو ھاشم اور بنو امیہ میں تعصب کی آگ بھڑکائی ، حضرت علی کو نبئ کریم ﷺ کا وصی عبداللہ ابن سبا نے ہی قرار دیا اور کہا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ھے اور علی محمد ﷺ کے وصی ہیں ، چونکہ محمدﷺ خاتم النبیین ہیں لہذا علی خاتم الاوصیاء ہیں ـ

اس نے کہا کہ تعجب ہے کہ مسلمان ابن مریم کے واپس آنے پر تو یقین رکھتے ہیں مگر محمد رسول اللہ ﷺ کے دوبارہ نزول کو نہیں مانتے ـ
بڑا ظلم ہے کہ لوگوں نے اپنے نبی کی وصیت کا خیال نہ کیا اور ایک وصی کے ہوتے ہوئے خلافت دوسروں کو سونپ دی ـ غیر مستحق لوگوں سے خلافت کا واپس لے کر وصی کی خلافت کو قائم کرنا فرض ہے ـ اس نے اسلامی ریاست کے تمام صدر مقاموں کا دورہ کیا ، مناسب بندے چن کو ان کو کام سمجھایا اور خود مصر کو مرکز بنا کر بیٹھ گیا ـ اس نے جو روڈ میپ تیار کیا وہ کچھ یوں تھا
۱۔ بظاھر متقی اور پرھیز گار بن کر عوام الناس پر اپنا اثرو رسوخ قائم کیا جائے[ ہمارے یہاں بھی قسم قسم کے چلے اور پانی میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر یا الٹے لٹک کر چلہ کرنے جیسے طریقے اسی اسٹریٹیجی کا حصہ ہیں کہ جس کے بعد لوگ ان کے کہنے سے ہر سنت کو ترک کرنے اور ہر فرض کو پاؤں تلے روندنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ، اسی مقام پر مرشد دا دیدار لاکھوں کروڑوں حجوں پر فوقیت رکھتا ہے ]
۲ـ خلیفہ وقت کے خلاف پروپیگنڈا تیز کیا جائے اور جھوٹے قصے بنا کر ان کے مظالم کی دھائی دی جائے ـ
۳ـ تمام سرکاری عمال کو زچ کیا جائے اور ان کی شراب نوشی اور بدکاری کا چرچا کر کے لوگوں کو ان سے متنفر کیا جائے ـ [ یہی سب کچھ پہلے حضرت عثمان اور ان کے گورنروں کے خلاف کیا گیا اور بعد میں حضرت معاویہ اور ان کے خاندان کے ساتھ کیا گیا ]
4۔ ایک شہر سے دوسرے شہر وہاں کے حکام کے ظلم و ستم کا جھوٹا پروپگنڈا کیا جائے ، یعنی عراق سے شام کے خطوط لکھے جائیں کہ عراق میں بہت ظلم و ستم ہو رہا ھے جبکہ شام سے عراق خط لکھے جائیں کہ شام میں بہت ظلم و ستم ہو رہا ہے ـ مدینے سے حضرت علیؓ ، حضرت طلحہؓ ،حضرت زبیرؓ اور دیگر اکابر صحابہ کے نام سے جھوٹے خطوط لکھے جائیں ،جن سے ان کے اس تحریک کے ساتھ وابستگی کا چرچا ہو ،، یہ کام مختلف صوبوں میں کچھ اس ترتیب سے ہوا ـ

بصرہ ـ
ابوموسی الاشعریؓ بصرے میں حضرت عثمانؓ کی طرف سے والی تھے ـ آپ نے ایک دفعہ اللہ کی راہ میں پیدل چل کر جہاد کرنے کے فضائل بیان کیئے ، جب کردوں کے خلاف جہاد کے لئے نکلے تو آپ ترکی گھوڑے پر سوار تھے، ظاھر ہے آپ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگ سوار ہو کر جہاد نہ کریں بلکہ آپ کا مقصد تھا کہ پیدل لوگ بھی جہاد سے محروم نہ رہیں ،، شورش پسندوں نے ان کے اس فعل کو بنیاد بنا کر ایک وفد مدینے بھیجا کہ ہم ایسے والی کو پسند نہیں کرتے جس کے قول و فعل میں تضاد ہو کہ لوگوں کو پیدل جہاد کی ترغیب دے اور خود گھوڑے پر سوار ہو ،، حضرت عثمان نے ان کو تبدیل کر کے عبداللہ بن عامر کو گورنر بنا کر بھیج دیا ، عبداللہ بن عامر بہادر اور مدبر انسان تھے ، ان کے خلاف یہ الزام لگایا کہ یہ کم عمر اور حضرت عثمانؓ کے رشتے دار ہیں اور یہ قبیلہ پروری ہے ـ بصرہ میں ایک شخص حکیم بن جبلہ نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جب اسلامی لشکر جہاد میں مشغول ہوتا تو یہ پیچھے اپنا گروہ لے کر ذمیوں پر ٹوٹ پڑتا اور ان کے مال و اسباب کے ساتھ ساتھ بےکس مسلمانوں کے مال پر بھی قبضہ کر لیتا ـ اھل بصرہ جب اس کی حرکتوں سے عاجز آ گئے تو عبداللہ بن عامر نے اس کو اس کی جماعت سمیت قید خانے میں ڈال دیا ، اسی دوران عبداللہ ابن سبا بصرہ آیا اور اس نے حکیم بن جبلہ کو اپنی پارٹی کے صوبائی سربراہ کے طور پر چن لیا ، یوں حکیم بن جبلہ نے اپنے آپ کو حضرت علی کی خلافت کی دعوت و تبلیغ کے لئے وقف کر لیا ـ

کوفہ ،،
کوفہ اپنی فتنہ انگیزی میں بصرہ سے بھی دو چار ہاتھ آگے تھا ـ اشتر نخعی، جندب ، ابن ذی الحبکہ ،صعصہ، عمرو ابن حمق وغیرہ یہاں کے شورش پسندوں کے گینگ ماسٹر تھے ـ
حضرت عثمان نے سعد بن وقاص کو یہاں کا گورنر بنایا ، حضرت سعد بن وقاصؓ نے اپنی کسی ضرورت کے لئے حضرت عبداللہ ابن مسعود جو افسر خراج تھے ،ان سے کچھ رقم قرض لی جو وقت پر ادا نہ کر سکے ـ عبداللہ ابن مسعود نے سختی سے تقاضا کیا اور سبائی پارٹی کے شورش پسند اس میں انوالو ہو گئے ، معاملے نے طول کھینچا تو خبر مدینے پہنچی اور عثمان غنیؓ نے ان کو معزول کر کے ولید بن عقبہ کو گورنر مقرر کر دیا ـ ولید بن عقبہ کے دور میں چند نوجوانوں نے ایک شخص کے گھر میں نقب لگا کر چوری کی اور صاحبِ خانہ کو قتل کر دیا ، نوجوان موقعے پر پکڑے گئے اور قصاص میں قتل کر دیئے گئے ، ان کے رشتے دار ولید بن عقبہ سے انتقام لینے کی راہ ڈھونڈنے لگے ـ ولید بن عقبہ رات کو ایک محفل متعقد کیا کرتے تھے جس میں ابوزید طائی ایک نصرانی نومسلم بھی شریک ہونے لگا ـ ابو زید کے متعلق مشہور تھا کہ وہ شراب نوشی کرتا ہے ـ ولید بن عقبہ کے مخالفین نے مشہور کر دیا کہ ولید ابن عقبہ بھی ابو زید کے ساتھ شراب نوشی کرتے ہیں ـ انہوں نے بس اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک وفد بنا کر مدینہ گئے جس میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کو مختلف حرکتوں کی وجہ سے ان کے عہدوں سے معزول کیا گیا تھا ، ان میں سے دو نے جھوٹی گواہی دی کہ انہوں نے ولید کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے ،، ولید کو معزول کر کے مدینہ بلایا گیا اور حضرت علیؓ کے فتوے پر ان پر شرب نوشی کی حد جاری کی گئ ، اور سعید بن عاص کو کوفے کا گورنر بنا کر بھیج دیا گیا ـ سعید بن عاص بھی رات کو ایک محفل کا اہتمام کرتے [ یہ عربوں کا قبائیلی کلچر تھا ] ان کی محفل میں ہر خاص و عام کی شرکت کی اجازت تھی ْ۔ ایک رات کسی نے اس مجلس میں کہا کہ طلحہ بن عبیداللہ بڑے سخی انسان ہیں ،، سعید بن عاص نے کہا کہ جس کے پاس نشتاسیج جیسا زرخیز علاقہ ہو اس کو سخی ہونا ہی چاہیئے ، اگر میرے پاس بھی ایسا زرخیز علاقہ یعنی جاگیر ہوتی تو تم میری سخاوت کی بہار دیکھتے ـ یہ سن کر ایک جوان نے کہا کہ آپ فرات کے کنارے جو آلِ کسری کا زرخیز علاقہ ہے وہ لے لیجئے ـ

یہ سن کر اشتر النخعی اور عمیر بن ضابی نے کہا کہ کم بخت تو ہماری جاگیر امیرِ کوفہ کو دلانا چاہتا ھے ؟ پھر یہ اس نوجوان پر وہیں مجلس میں پل پڑے اور اس پر شدید تشدد کیا ـ سعید بن عاص ان کی اس بدتمیزی پر بہت ملول ہوئے اور رات کی محفل موقوف کر کے دروازے پر دربان بٹھا دیئے ،، اب ان لوگوں نے یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کیا کہ سعید فرعون بن گیا ہے ، متکبر ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ لوگ جب زیادہ تنگ ہوئے تو مدینے شکایت بھیجی گئ کہ ہمیں اس گروہ سے نجات دلائی جائے ،، مدینے سے حضرت سعید بن عاص کو ھدایت دی گئ کہ ان کو شام معاویہ بن سفیانؓ کے پاس بھیج دو ،، یہ لوگ جب شام پہنچے تو حضرت معاویہؓ نے ان کا خوب اکرام کیا اور ان کو بہت پیار محبت کے ساتھ سمجھایا مگر ان لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا ،الٹا حضرت معاویہؓ کے ساتھ بھی بدزبانی کی ،، انہوں نے مدینے لکھ بھیجا کہ یہ لوگ ناقابلِ اصلاح ہیں ، کم از کم میرے بس کے تو ہر گز نہیں ـ حضرت عثمان نے حکم دیا کہ ان کو حمص عبدالرحمان بن خالد کے پاس بھیج دو ـ عبدالرحمان نے ان کے کس بل نکال کر رکھ دیئے اور انہوں نے اپنے افعال سے توبہ کر لی ، حضرت عثمان کو اطلاع دی گئ تو انہوں نے ان کو واپس کوفہ جانے کی اجازت دے دی ،مگر کوفہ کی مٹی پہ پاؤں رکھتے ہی ان لوگوں کی شرپسند فطرت عود کر آئی اور دوبارہ سے وہی کھیل شروع کر دیا ، اسی دوران وہاں عبداللہ ابن سبا آ پہنچا اور کوفے میں فتنہ پھیلانے کے لئے اس نے اسی گروہ کو اپنا ایجنٹ بنا لیا ـ

عبداللہ ابن سبا،حقیقت یا فسانہ

ابن سبا اور سبائی ،،

گزشتہ سے پیوستہ ـ
ہم جب جب شھادتِ عثمانؓ کے سلسلے میں لفظ ’’ سبائیوں ‘‘ پڑھا یا سنا کرتے تھے تو سمجھا کرتے تھے کہ یہ بھی ’’ بلوائیوں ‘‘ قسم کی چیز ہے ،، مگر ابن سبا یہود کے مکر و فریب کی چلائی گئ ایک آندھی کا نام تھا ، یہود جب طاقت سے عیسائیت کا رستہ نہ روک سکے تو سینٹ پال کو عیسائی بنا کر عیسائیت میں داخل کیا اور پھر وہ عیسائیت تخلیق کی کہ خود عیسی علیہ السلام بھی قیامت کے دن اس کو عیسائیت ماننے سے انکار کر دیں گے ـ قرآن نے ان کی اس چال کو واضح انداز میں پیش فرمایا ہے ، اس کے بعد بھی مسلمانوں کا رویہ نو مسلم یہودیوں کے بارے میں بےاحتیاطی کا ہی رہا ، مسلمانوں نے سمجھا کہ اتنی بڑی سلطنت کو بھلا اب سازشوں سے کیا خطرہ ھو سکتا ھے ؟ مگر حقیقت میں یہود کی سازش نہ صرف ریاست کے خلاف ہوتی ہے بلکہ اس دین کے اندر طفیلیہ بن کر بیٹھ جاتی ھے خون مسلم کا بہتا ھے اور خدمت یہودیت کی ہوتی ہے ـ
[ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (72ـ آلعمران )وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (73)
اور اھل کتاب کے ایک گروہ نے منصوبہ بنایا کہ ایمان لے آؤ اس پر جو نازل ہوا ہے مومنوں پر اولین صبح کے وقت اور دن کے آخر میں کافر ہو جاؤ تا کہ وہ بھی پلٹ آئیں ، مگر سچا ایمان اسی پر رکھو جو تمہارے دین پر چلے ، کہ مبادا تم تسلیم کرو کہ ویسا ہی کلام ان کو دیا گیا ہے جیسا تمہیں دیا گیا تھا ،یا وہ تمہارے ایمان کو بطور حجت پیش کریں اللہ کے یہاں ـ کہہ دیجئے بےشک ھدایت تو وہی ہے جس کو اللہ ھدایت تسلیم کرے ، کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ھے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا دائم جاننے والا ہے ـ

ابن سبا شام میں ـ
شام کے والی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے جو ایک دور اندیش اور مدبر اور بہترین منتظم تھے یہاں انہوں نے اس قسم کے فتنوں کو پنپنے نہیں دیا ،مگر یہاں ایک دوسری قسم کی صورتحال پیدا ہو گئ جس کو فتنہ پرداز ابن سبا نے خوب استعمال کیا ـ
ابوذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ ایک درویش منش زاہد و عابد انسان تھے ، دنیا کے مال و متاع سے ان کو انتہا درجے کی نفرت تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ابوذر اپنی قسم کا ایک ہی فرد ہے ، اکیلا مرے گا اور اکیلا ہی اٹھایا جائے گا ـ ان کی رائے تھی کہ خمس عوام الناس کا حق ہے اس کو بیت المال میں جمع نہیں کیا جانا چاہئے ـ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک ریاست کی سماجی اور تمدنی ضروریات کے لئے اس مال کو بیت المال میں جمع کرانا لازم ہے ، یہ اللہ کا مال ہے جو اجتماعی سماجی اور انسانی مفادِ عامہ کے لئے خرچ ہونا چاہیئے ،،

عبداللہ ابن سبا جب شام آیا تو اس نے حضرت ابوذرؓ کو کہا کہ دیکھیں یہ معاویہؓ کیا کرتے ہیں ؟ وہ بیت المال کو لوگوں کی امانت کہنے کی بجائے اللہ کا مال کہتے ہیں ـ تا کہ مسلمانوں کا اس میں کوئی حق ثابت نہ ہو سکے ـ یہ بات حضرت ابوذرؓ جیسے سیدھے سادھے بندے کے دل میں اتر گئ وہ سیدھے حضرت معاویہؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ آپ بیت المال کو اللہ کا مال کیوں کہتے ہیں ؟ اس پر حضرت معاویہؓ نے نہایت نرمی سے جواب دیا کہ اے ابوذرؓ ہم سب اللہ کے غلام میں اور ہمارا مال اللہ کا ہی مال ہے ، حضرت ابوذرؓ نے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں کہنا چاہئے ،، اس پر حضرت معاویہؓ نے جواب دیا کہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ اللہ کا مال نہیں ہے مگر آپ کہتے ہیں تو آئندہ اس کو مسلمانوں کا مال کہہ دیا کرونگا ـ
عبداللہ ابن سبا حضرت ابی درداء رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بھی بھڑکانے کی کوشش کی مگر وہ اس کی چال میں نہ آئے اور صاف کہہ دیا کہ مجھے تو تُو ابھی بھی یہودی ہی لگتا ہے ، پھر وہ حضرت عبادہ ابن صامتؓ کے پاس گیا اور ان کے کان بھی بھرنے کی کوشش کی ، وہ اس کو پکڑ کر حضرت معاویہ کے پاس لے گئے اور کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس نے ابوذر کو بھی بہکایا تھا اور میرے سمیت کئ دوسرے اصحابِ رسول کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے ـ
ابن سبا کے پٹی پڑھانے اور حضرت معاویہؓ سے مکالمے کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس خیال کی باقاعدہ اشاعت شروع کر دی کہ دولتمندوں کو ضرورت سے زیادہ مال رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کو دیگر ضروتمندوں میں بانٹ دینا چاہیئے ،، وہ اپنے موقف کے حق میں یہ آیت پیش کیا کرتے تھے ـ

[ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ـ
توبہ ـ ۱۳
اے ایمان والو بےشک بہت سارے یہودی احبار اور عیسائی رھبان لوگوں کو مال ناحق کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں [ یعنی اللہ کےنام پر لے کر اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ] اور جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں مگر اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے پس ان کو دردناک عذاب کی نوید سنا دیجئے ـ
جس طرح ہر مذھب کے پیشوا کے لئے اپنی اصطلاح ہے اس کی اسی کی طرف مسنوب کیا جاتا ھے ،جیسے ھندو مذھبی لیڈر پنڈت کہلاتا ہے ، مسلمانوں کا لیڈر عالم یا علامہ یا پیرکہلاتا ہے ، عیسائیوں کا پادری یا راھب کہلاتا ھے ،، بات شروع اس سے ہوئی ہے کہ یہود و نصاری کے علماء کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ سونا چاندی اکٹھا کرتے ہیں مگر اس کو مفادِ عامہ پہ خرچ نہیں کرتے ، اور یہ بات ہر مذھب کے ذھبی راہمناؤں پر لاگو ہوتی ہے ، پیروں کے یہاں بھی ، پنڈتوں کے یہاں بھی اور پادریوں کے یہاں بھی ،،
حضرت معاویہؓ کی رائے میں یہاں فی سبیل اللہ کہہ کر بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں مفاد عامہ کے کاموں پر خرچ کرنے کے بعد جو بچتا ھے وہ کنز یا خزانہ نہیں ہوتا ،، حضرت معاویہؓ کی رائے وقیع بھی ہے اور قانوناً درست بھی ، اس لئے کہ پیر ، پنڈت، پادری تو صدقات و خیرات کی صورت میں ایزی منی لیتے اور جمع کرتے ہیں ،، مگر ایک شخص جو سارا دن محنت مزدوری اور خون پسینہ ایک کر کے کماتا ھے جبکہ دوسرا کوئی ہٹا کٹا سارا دن کنگھی پٹی کر کے گلیوں میں مٹر گشت کرتا یا گیمیز کھیلتا ھے تو آپ اس دہاڑی لگانے والے کو کیسے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی محنت کی کمائی اس مسٹنڈے کو دے دے اور اس سے اللہ بہت خوش ہو گا ؟ اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں بہت سارے لوگ امیر کبیر تھے جنہوں نے چھ چھ سو اونٹ جہاد کے لئے مہیا کیئے ،، رسول اللہ ﷺ نے تو کبھی حکم نہیں دیا کہ عثمانؓ اور عبدالرحمان بن عوؓف اپنا مال ابوذرؓ یا دیگر غریب صحابہؓ میں تقسیم کر دیں ،،
حضرت ابوذرؓ کی تحریک پہ سارے نکھٹو اور مسٹنڈے ان کے پیچھے ہو لئے کہ امیر اپنا فالتو پیسہ ہم کو دیں یا ہم ان سے زبردستی اپنا حق چھین لیں گے ، یہ تحریک ایک فتنہ بن گئ اورا میر و غریب کے درمیان صف بندی ہونے لگ گئ ـ حضرت معاویہؓ نے تمام احوال حضرت عثمان کو مدینے لکھ بھیجے ، انہوں نے حکم دیا کہ نہایت احترام کے ساتھ ابوذر کو مدینہ بھیج دیں ـ مدینہ پہنچ کر بھی جب ابوذرؓ نے اپنے اسی خیال کی تبلیغ شروع کر دی تو حضرت عثمانؓ نے ان کو بلا کر سمجھایا کہ اے ابوذرؓاللہ اور رسول ﷺ کا جو حق مخلوق کے ذمے ہے یعنی زکوۃ اور خمس ،، ان سے وصول کر لیتا ھوں اور ان کا جو حق ریاست کے ذمے ثابت ہے وہ میں ادا کرتا ھوں ، اس کے بعد میں لوگوں کو کیسے مجبور کر سکتا ہوں کہ وہ اپنا مال اپنے اھل و عیال کے لئے بچا کر نہ رکھیں اور اس کو عوام میں بانٹ دیں ؟ کیا آپؓ نے ایسا کوئی حکم رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا ہے ؟ کیا رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مبارک آپ سے پوشیدہ ہے کہ ’’ تم اپنے عیال کو امیر چھوڑ کر مرو ،یہ بہتر ہے اس سے کہ تم ان کو تنگدست اور فقیر چھوڑ کر جاؤ ؟

حضرت ابوذر نے فرمایا کہ آپ میرا کوئی انتظام مدینے کے باہر کر دیں ، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کہا تھا کہ اے ابوذر جب مدینے کی آبادی سلح تک پہنچ جائے تو تم وہاں سے رخصت ہو جانا ،، حضرت عثمانؓ نے مقام ربذہ میں ان کے لئے انتظام کر دیا ، گھر کے ساتھ ایک مسجد بھی وہیں بنوا دی کچھ اونٹ اور دو غلام بھی ان کی معاش اور آرام کے لئے ان کو مہیا کر دیئے ـ
تینتیس تا پینتیس ہجری کے برسوں میں ایک یمنی یہودی عبداللہ بن سبا نے، جو ابن السودا کے نام سے مشہور تھا، اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے ظاہری تقوی کا یہ عالم تھا کہ نماز فجر کے لیے مسجد میں داخل ہونے والا وہ پہلا شخص ہوتا اور عشاء کے بعد مسجد سے رخصت ہونے والا ھی وہ آخری شخص ہوتا ۔ ہر وقت نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتا۔ اکثر روزہ رکھتا اور درود و وظائف کا تو شمار ہی نہ تھا۔ اس کے بعد وہ عالم اسلام کے دورے پر نکل کھڑا ہوا۔اور حجاز، بصرہ، کوفہ، شام، مصر میں لوگوں کو اپنے بناوٹی تقوی سے متاثر کرتا اور خصوصاً ان لوگوں کی ٹوہ میں رہتا جنہوں نے جان بچانے اور وقتی مفاد کے تحت اسلام کا لیبل اپنے اوپر لگا لیا تھا لیکن دراصل وہ اس کی جڑیں کاٹنے کے درپے تھے۔ جب اس نے تمام صوبوں میں اپنا نیٹ ورک قائم کر لیا اور ایسے بہت سے افراد جمع کرلیے تو اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا جو سادہ مگر دور رس اثرات کا حال تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی وہ اس کے سگنل کے منتظر رہیں۔ اس نے ایک خط تیار کیا جو ہر علاقے میں اس کے معتمدینِ خاص کو دوسرے علاقوں کے معتمدینِ خاص کی طرف سے پہنچایا گیا۔ اس میں لکھا تھا "پیارے بھائی۔ آپ خوش قسمت ہیں آپ کے علاقے میں اسلام زندہ ہے۔ گورنر دیانت دار ہے، انتظامیہ منصف مزاج ہے جبکہ میرے علاقے میں اسلام مردہ ہوچکا ہے۔ کوئی شخص اس پر عمل پیرا نہیں۔ گورنر شرابی اور عورتوں کا رسیا ہے۔ انتظامیہ بدعنوان ہے۔ بہتری کا کوئی امکان نہیں۔”

اس طرح کے خطوط مسلسل مدینہ سے ہر شہر میں آئے اور اس کے معتمدین نے نمازوں کے بعد مساجد میں پڑھ کر سنائے اور اسی طرح ہر شہر سے ایسے ہی خطوط مدینہ آئے۔ پہلے پہل تو لوگوں نے کوئی توجہ نہ دی لیکن جب "حالات "کی "مسلسل مگر جعلی تصدیق بھی "ہونے لگی تو عوام میں ناراضگی پھیلنے لگی۔ بعض نے یہ اطلاعات خلیفہ(حضرت عثمانؓ )تک بھی پہنچائیں۔ اپنے معمول کے مطابق انہوں نے فورا کارروائی کی اور لوگوں سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہئے ؟ فیصلہ ہوا کہ مدینہ سے با اعتماد اور غیر جانبدار لوگوں کو ان علاقوں کے دورے پر بھیجا جائے جہاں کے بارے میں شکایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام سے دور ہوگئے ہیں اوریہ لوگ خود مشاہدہ کرکے الزامات کی تحقیقات کریں۔ بظاہر یہ لوگ گروپوں کی شکل میں نہیں گئے بلکہ ہر ایک اپنے لیے مقرر علاقے کی طرف گیا۔ طبری کے مطابق تمام نمائندے اپنے مقررہ وقت پر دارالحکومت پہنچ گئے اور یہی خبر لائے کہ نامعلوم افراد کی طرف سے عاید کیے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں اور حالات بہت اچھے اور معمول کے مطابق ہیں (مگر بدقسمتی سے صوبوں میں اس قسم کا کوئی انتظام نہ کیا گیا جہاں لوگ حضرت عثمانؓ کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں پر مسلسل یقین کرتے رہے)۔
صرف مصر جانے والے عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ واپس نہ آئے اور مصر ہی میں ٹھہر گئے۔ کچھ ہی عرصہ بعد گورنر مصر نے خلیفہ کو رپورٹ بھجوائی کہ یہاں کچھ لوگوں نے عمار رضی اللہ تعالی عنہ کو چکر دے کر ساتھ ملا لیا ہے اور ان کے ساتھ جمع ہورہے ہیں جن میں عبداللہ بن السوداء بھی شامل ہے، مگر خلیفہ نے اپنی سادہ لوحی کے تحت درگزر کی روش اختیار کی اور کوئی خاص ایکشن نہ لیا ۔ ۳۵ ہجری میں ابن سبا نے مصر سے مدینہ کا سفر کیا ۔ طبری نے لکھا ہے کہ ” چھ سو کے لگ بھگ فدائی ا اس کے ساتھ تھے۔ اپنے آپ کو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا رکھنے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی بصرہ اورکوفہ سے بھی سبائی مدینہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ بلاشبہ یہ سب یہودی النسل نہیں تھے۔ ان میں بعض مخلص مسلمان بھی تھے جو اپنی سادگی کے باعث ان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔ سبائی پراپیگنڈہ کافی کاٹ دار تھا اور ان سب کا مطالبہ یہ تھاکہ خلیفہ کو معزول کیا جائے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے لیکن ان میں یہ اتفاق رائے نہیں ہورہا تھا کہ خلیفہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو معزول کرکے کس کو ان کی جگہ لایا جائے۔ مصریوں کا مطالبہ تھاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔ بصرہ کے سبائی حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں تھے جبکہ کوفی حضرت زبیر ابن العوام رضی اللہ تعالی عنہ کے حامی تھے۔ عامۃ المسلمین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے زمین بڑی احتیاط سے ہموار کی گئی۔ جو خطوط مدینہ سے بھجوائے گئے ان پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کئے گئے تھے۔ جن میں مصریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ مدینہ آئیں اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو خلافت کی گدی سے اتارنے میں ان کی مدد کریں ۔ دوسرے خطوط پرام المونین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے دستخط تھے جن میں صوبوں کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا تھا ۔ جبکہ بعض خطوط پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے دستخط کئے گئے (ابن کثیر)
جب شام اور فلسطین کے گورنر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مشکوک افراد کے قافلوں کی مختلف مقامات سے مدینہ روانگی کی اطلاعات ملیں تو انہوں نے خلیفہ کو مطلع کرتے ہوئے استدعا کی کہ انہیں اپنے کچھ قابل اعتماد فوجی دستے دارالحکومت بھجوانے کی اجازت دے دیں مگر خلیفہ نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
جب مصر، بصرہ اور کوفہ سے آنے والے باغی مدینہ پہنچے تو وہ سیدھے اپنے "محبوب "لیڈروں علیؓ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے۔ انہوں نے امہات المومنینؓ کے پاس بھی حاضری دی۔ ان سب اصحاب نے آنے والوں (یعنی باغیوں )سے یہی سوال کیا کہ وہ اچانک ان پر کس طرح اتنے مہربان ہوگئے ہیں؟ انہوں نے خلافت کی پیشکشیں بھی ٹھکرا دیں اور انہیں اپنے گھروں سے نکال باہر کیا۔ (ادھر سے مایوس ہونے کے بعد )مصری باغی خلیفہ کے پاس چلے گئے اور گورنر کے خلاف شکایت پیش کی۔ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا کہ آپ لوگ اس کی جگہ کس کو گورنر لانا چاہتے ہیں؟ "ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے محمد کو۔” باغیوں نے جواب دیا۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مدینہ میں ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے ان صاحبزادے کو اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا جاتا تھا بلکہ انہیں فاسق کہا جاتا تھا اور بی بی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کھلے لفظوں میں اس کے بارے میں نا پسندیدگی کا اظہار کرتی تھیں۔
عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فوری طور پر باغیوں کا مطالبہ تسلیم کیا اور نئے گورنر کی تقرری کا خط لکھ کر محمد بن ابی بکر کے حوالے کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فورا مصر پہنچیں۔ باغیوں کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ ان کا یہ مطالبہ اتنی آسانی سے تسلیم کر لیا جائے گا۔ اب ان کے لیے مصر واپسی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا۔ پھر اس بدنام کہانی کا آغاز ہوا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے خفیہ طور پر ایک ایلچی مصر بھیجا جس میں گورنر کو مبینہ طور پر ہدایت کی گئی تھی کہ نئے نامزد گورنر محمد بن ابی بکر جونہی مصر پہنچے انہیں قتل کردیا جائے۔
مصری دستہ نے مطمئن ہوکر واپسی کا سفر اختیار کیا۔ نامزد گورنر محمد بن ابی بکربھی ان کے ہمراہ تھے۔ راستے میں ایک تیز رفتار اونٹ سوار ان کے پاس سے گزر کر آگے گیا۔ اس کا رخ مصر کی جانب تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ وہی اونٹ واپس مدینہ کی طرف جاتا نظر آیا۔ اور ایک بار پھر دیکھا گیا کہ وہی ِ اونٹ سوار دوبارہ مصر کی جانب عازمِ سفر ہے۔ مگر کسی نے اس سے تعرض نہ کیا پھر اچانک اس نے قافلہ والوں پر دشنام طرازی شروع کردی۔ انہوں نے پوچھا "تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ "اس نے بڑے متکبرانہ انداز میں جواب دیا "میں خلیفہ کا قاصد ہوں اور گورنر مصر کےلیے ان کا خط لے کر جا رہا ہوں۔” اور خط بھی انہیں دکھا دیا۔ متجسس ہوکر محمد بن ابی بکر نے وہ خط کھول لیا اور پڑھا جس میں مبینہ طور پر گورنر مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جونہی نامزد گورنر محمد بن ابی بکر اپنا تقرر نامہ لے کر آپ کے پاس پہنچیں انہیں قتل کردیا جائے اور ان کے ساتھیوں کو دیگر سزائیں دی جائیں۔
کیا یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ یہ خط بھی ابن سبا کی ایک اور جعل سازی تھی؟ سازشیوں کی توقع کے عین مطابق خط پڑھ کر محمد بن ابی بکر برافروختہ ہوگئے۔ انہوں نے فی الفور مدینہ واپسی کا سفر اختیار کیا اور دارالحکومت پہنچ کر طوفان کھڑا کردیا اور اگرچہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم اٹھا کر انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ خط انہوں نے نہیں لکھا مگر محمد بن ابی بکر نہ مانے۔

مصری باغی پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچے اور مطالبہ کیا کہ خلیفہ کے قتل کے لیے ان کا ساتھ دیں جنہوں نے بلاوجہ ہمارے قتل کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا "آپ ہمیں کس طرح انکار کرسکتے ہیں؟ آپ ہی نے تو خط لکھ کر ہمیں بلوایا ہے۔” انہوں نے کہا "خدا کی قسم !میں نے کبھی کوئی ایسا خط نہیں لکھا۔” باغی حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا "تم مصر کے راستے سے حضرتت عثمان کے ایک جعلی خط کا بہانہ بنا کر واپس آگئے ہو مگر بصرہ اور کوفہ جانے والے دستے جو اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہوچکے تھے وہ بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ تم لوگوں کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ یقیناً یہ سازش کا شاخسانہ ہے ـ
حج کا زمانہ قریب آ رہا تھا۔ خلیفہ نے مدینہ گریژن کے فوجی دستوں کو حج پر جانے کی اجازت دے دی اور مدینہ امن و امان قائم رکھنے والی فوج سے خالی ہوگیا۔ باغیوں نےخلیفہ کی رہاںئش گاہ کا محاصرہ کرلیا اور انہیں مسجدِ نبوی میں نمازیوں کی امامت سے روک دیا۔ غفیقی نامی ایک یمنی نے، جو ابن سبا کا نائب تھا، خلیفہ کی جگہ نمازوں کی امامت شروع کردی۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابن سبا کی طرح وہ بھی ِ یہودی تھا کیونکہ شہادت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اس نے اس قرآن کو پاؤں سے ٹھوکر ماری جسے شہادت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پڑھ رہے تھے اور یہ الٹ کر خلیفہ کے گھٹنوں پر گر پڑا۔
باغیوں نے خلیفہ کی رہائش گاہ کا گیٹ جلادیا تاہم وہ اندر نہ جاسکے۔ اس پر حملہ آور محمد بن ابوبکرؓ کے ہمراہ پیچھے کی گلی سے ہوکر مکان کی عقبی دیوار پر چڑھ گئے اور اندر کود کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے خلیفہ کو شہید کرڈالا۔ انکی اہلیہ شوہر کو بچانے کی کوشش میں شدید زخمی ہوگئیں۔ ان کے ہاتھ کی انگلیاں بھی کٹ گئیں۔ باغیوں نے گھر میں لوٹ مار بھی کی۔ حملہ سے قبل محمد بن ابی بکرنے معمر خلیفہ کی داڑھی پکڑلی۔ جب خلیفہ نے انہیں شرم دلائی کہ "اگر آپ کے والد(ابوبکرؓ )یہاں ہوتے اور آپ کو اس حالت میں دیکھتے ۔۔۔۔۔۔” تو انہوں نے داڑھی چھوڑ دی اور واپس چلے گئے تاہم دوسروں نے اپنا کام مکمل کر دیا ۔ شومی قسمت دیکھیے کہ باغیوں نے خلیفہ کے جسِد خاکی کو جنت البقیع میں دفن کرنے سے بھی روک دیا اور کہا کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ یہودی ہیں (استغفراللہ )اور یہ حقیقت ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو جس قطعہ اراضی پر دفن کیا گیا وہ ایک یہودی کی ملکیت تھی۔ بعد میں جب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے وہ قطعہ اراضی جس میں مظلوم خلیفہ کی قبر تھی خرید کر جنت البقیع میں شامل
کردیا

جنگ جیت لینا اور ایک شریف النفس بے دست وپا خلیفہ کو قتل کرنا تو آسان تھا مگر اب امن و امان کیسے بحال ہو؟ باغی اب چاہتے تھے کہ اپنے جرم کا کوئی جواز پیدا کرلیں تا کہ انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔ پہلے وہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور انہیں خلافت کی پیش کش کی مگر انہوں نے انہیں جھڑک کر واپس بھیج دیا۔ جس کے بعد وہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے لیکن انہوں نے بھی انہیں منہ نہ لگایا۔ پھر انہوں نے ایک اور حربہ اختیار کیا کہ مدینہ کی گلیوں میں اعلان کرنے لگے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کہو کہ وہ خلافت سنبھال لیں ورنہ ہم تمہارا قتلِ عام شروع کردیں گے۔ اس کے نتائج خاطر خواہ نکلے۔ لوگ روتے پیٹتے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور استدعا کی کہ انہیں ہتھے سے اکھڑے ہوئے باغیوں کی دستبرد سے بچائیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان کی آہ و فغاں سے متاثر ہوئے مگر کہا کہ خلافت عوام الناس کا معاملہ ہے۔ میں نہ تو آپ کے کہنے پر اور نہ ہی باغیوں کے کہنے پر اسے سنبھال سکتا ہوں۔ یہ بات تو درست ہے کہ خلیفہ کی ِ ضرورت ہے مگر اس کے لیے لوگوں کی رائے لینا ہوگی۔ اس لیے میں کل نماز فجر کے بعد لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا۔

اگلے روز نماز کے بعد علی رضی اللہ تعالی عنہ نے منبر پر کھڑے ہوکر بے گناہ خلیفہ کے بہیمانہ قتل پر دلی دکھ اور صدمے کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ منتخب کرلیں۔ شاید سب سے پہلے چیخنے والے سبائی ایجنٹ ہی ہوں جنہوں نے کہا "صرف آپ ہی اس کے مستحق ہیں، کیونکہ آپ سب سے اچھے مسلمان ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کہنے والےسچے مسلمان ہی ہوں تاہم اس موقع پر کوئی اور نام سامنے نہ آیا اور لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت کرنا شروع کردی۔ باغیوں نے دیکھا کہ بعض ممتاز اصحابِ رضی اللہ تعالی عنہم اس موقع پر خاموش رہے اور انہوں نے کسی قسم کی سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
زبیر، طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ ، زید بن ثابتؓ ، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور صہیب رضی اللہ تعالی عنہ ، اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ شامل تھے، باغیوں کو سب سے زیادہ خدشہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے تھا۔ اس لیے وہ ان دونوں کو شمشیر کی نوک پر رکھ کر مسجد میں لائے اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بیعت نہ کی تو وہ انہیں قتل کر دیں گے۔ چنانچہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے جبر اور دباؤ کے تحت بیعت کی۔
عام لوگوں کو توقع تھی کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کا آغاز ہی قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی گرفتاری سے کریں گے مگر دن اور ہفتے گزرنے لگے اور ایسا کچھ ھی نہ ہوا۔ (مدینہ کا کنٹرول عملی طور پر باغیوں کے ہاتھ میں تھا اور علی رضی اللہ تعالی عنہ باغیوں کی مرضی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہ تھے۔ اگر حضرت علی قاتلین سے قصاص لینے کی پوزیشن میں نہیں تھے تو بہتر ہوتا کہ وہ پھر مقتول فیملی کے بہی خواہوں کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھاتے تا آنکہ ان کو مکے سے یا شام سے کمک نہ پہنچ جاتی ـ مگر اللہ کا لکھا ھو کر رہتا ھے ،حضرت علیؓ نے چن چن کر ان گورنروں کو معزول کرنا شروع کر دیا جو بدلہ لینے کی پوزیشن میں تھے ـ ان اقدامات نے مقتول خلیفہ حضرت عثمانؓ کی فیملی کو یقین دلا دیا کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور حضرت علیؓ مقتول پارٹی کو ہی دباؤ میں لانا چاہتے ہیں ـ

اب مدینہ سے ایک اور خط پورے عا لمِ اسلام میں پھیلایا گیا جس میں کہا گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے خلیفہ بننے کے لیے عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قاتلینِ عثماؿ رضی اللہ تعالی عنہ سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو اس الزام پر یقین آنے لگا۔ یہ فطری بات تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ اور بچوں کو ہر شخص سے زیادہ دلچسپی تھی کہ قاتلینِ عثمان رضی ِاللہ تعالی عنہ کے خلاف نظام انصاف کو حرکت میں لایا جائے۔ اس لیے(شاید مدینہ سے مایوس ہوکر- مترجم ) آپ کی اہلیہ نے اپنی کٹی ہوئی انگلیاں اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا خون آلود کرتا جو بوقتِ شہادت ز یبِ تن کیے ہوئے تھے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شام بھجوا دیا جو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قریبی رشتہ دار تھے اور ان پر زور دیا کہ قتلِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقام لیا جائے۔ اس موقع پر اپنے مخلص دوستوں کے مشوروں کو نظر انداز کرکے علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا۔ ِ انہوں نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سمیت صوبائی گورنروں کو شہادت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے سانحہ کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ وہ خلافت کا منصب سنبھال چکے ہیں اب وہ نہ صرف خود نئے خلیفہ کی بیعت کریں بلکہ اپنے اپنے صوبوں میں ھی خلیفہ کے لیے بیعت لیں۔ انہوں نے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام خط میں انہیں گورنر کے منصب سے معزول کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ چارج نئے گورنر کے حوالے کردیں۔

یقینی طور پر سبائیوں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی لیکن وہ آسانی سے ان کے چکر میں آنے والے نہ تھے۔ انہوں نے حضرت علیؓ کے خط جواب نہایت نرمی سے دیا اور کہا کہ جب قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو گرفتار کرکے سزا دے دی جائے گی وہ بیعت کرلیں گے۔
اب ہم اپنے موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ اسی اثناء میں سبائیوں کی طرف سے عائشہ رضی اللہ ِ حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا اور دوسری ، ازواج مطہرات کو خط بھجوائے گئے جن میں الزام لگایا گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا دینے سے انکاری ہیں اور امہات المومنین ہونے کی حیثیت سے آپ کا یہ حق اور فرض ہے کہ آپ اپنے "بیٹے "عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے قاتلوں کےسروں کا مطالبہ کریں۔ بصرہ سے آنے والے خطوط میں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر امہات المو منینت بصرہ آئیں وہ تو وہ انہیں ہر ممکن مدد کے لیے حاضر پائیں گی۔
کچھ عرصہ بعد طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ مکہ جانے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوگئے۔ ان کی منزل بصرہ تھی۔ مورخوں کا کہنا ہے کہ ان کی روانگی سے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر انہوں نے بصرہ کے خزانے پر قبضہ کرلیا اور وہاں کی فوج ان سے مل گئی تو وہ حکومت کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ اس لیے انہوں نے بھی عراق جانے کا قصد کرلیا۔ اور یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی جان لیوا غلطی تھی ، مدینے کے مخلص لوگوں سے نکل گر باغیوں کی کھچار میں جا گھسنا ہر گز حکیمانہ فیصلہ نہیں کہا جا سکتا ، جب وہ مدینے میں کہ جو مخلصین کا گڑھ تھا چند سو باغیوں کے یرغمال بن کر آزادانہ فیصلے نہیں کر پا رہے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے تو یہ کیسے ممکن تھا وہ باغیوں کے گڑھ میں رہ کر کوئی مثبت عملی اقدامات کر پائیں گے ؟ ادھر ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا پر ان کے بھائی ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل زور دے رہے تھے کہ وہ سیاست میں سرگرم حصہ لیں۔ اسی اثناء میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بھی اپنے کچھ قریبی عزیزوں کے ہمراہ عراق تشریف لے گئیں۔ بصرہ کے نزدیک ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد جمع ہوجانے والوں اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج میں تصادم کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
سبائیوں کی خطوط مہم سے بہت سی غلط فہمیاں جنم لے چکی تھیں۔ بعض مخلص اور غیر جانبدار مسلمانوں نے مصالحت کی کوششیں شروع کر دیں اور جلد ہی یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں۔ حقیقت یہ تھی کہ نہ تو حضرت علی قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو سزا دینے کے خلاف تھے اور نہ ہی عائشہ صدیقہؓ ۠ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کے کوئی ذاتی عزائم تھے۔ لہذا امن معاہدہ ہوگیا اور دونوں طرف کے لوگ پہلی بار سکون کی نیند سوگئے۔ بظاہر ابن سبا کے کھیل کی بساط الٹ چکی تھی۔ مگر وہ حوصلہ ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔ رات کے آخری پہر اس کے کچھ آدمی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کیمپ میں داخل ہوگئے اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج پر حملہ کردیا۔ قدرتی طور پر علی رضی اللہ تعالی عنہ کے کیمپ میں یہی سمجھا گیا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور دھوکہ سے حملہ کردیا ہے۔ تاہم جلد ہی ان کے فوجیوں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔ ادھر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے کیمپ کو گمان ہوا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس ساری صورتحال میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے انتہائی جرأت مندی سے صورتحال کا مقابلہ کیا اور آخر تک اپنی اونٹنی پر سوار رہیں۔ اسی بنا پر اس جنگ کو جنگِ جمل کا نام دیا گیا۔ لڑائی کے دوران علی رضی اللہ تعالی عنہ کی فوج نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے گرد گھیرا ڈال دیا اور عملاً وہ مخالف فوج کی حراست میں آگئیں۔ ان کے آدمی موقع سے فرار ہوگئے۔ اس کے بعد جب صورتحال واضح ہوئی تو بہت دیر ہوگئی تھی۔ اس موقع پر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے حریف معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف مدد کی پیشکش کی تاہم علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انتہائی احترام سے ان کی پیشکش کا ِ شکریہ ادا کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ واپس مدینہ تشریف لے چلیں اوران کی شایانِ شان واپسی کے انتظامات بھی کر دئیے۔
مورخوں نے ایک اور بظاہر معمولی واقعہ کا ذکر کیا ہے جسے یہاں بیان کرنا نا مناسب نہ ہوگا۔ جنگِ جمل سے قبل یا فوراً بعد کچھ مخلص مسلمانوں نے علی رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کی کہ قاتلینِ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ان کی فوج میں آزادی سے پھر رہے ہیں اور وہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہے۔ اس
پر علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آدمیوں سے پوچھا کہ قاتلینِ عثمانؓ کون ہیں؟ کم و بیش بارہ ہزار آدمی اٹھ کر کھڑے ہوئے اور چلاچلا کر کہنےلگے "میں ہوں۔ میں ہوں۔” یہاں حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ اپنی نیک دلی کے باوجود علی رضی اللہ تعالی عنہ کو وہ آزادی حاصل نہیں تھی جو ایک حکمران کو حاصل ہونی چاہئے ـ

ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم ـ بتصرف مترجم